فدائی حملہ:اللہ رب العز ت نے جہاد وقتال دائمی طورپر فرض
کردیاہے (البقر ہ
216) اور ہرحال اور شکل میں جاری
رکھنے کا حکم دیا(التوبہ
41)نیز تمام اطراف و اکناف عالم
مین ' پوری دنیامیں ہر دشمن اسلام کے خلاف ' ہر منکر وکا
فر کے خلاف ' ہر براعظیم اور بر صغیر میں جہاد کرنے کا حکم
دیا (التوبہ 29) تاکہ پوری دنیامیں کفر کا خاتمہ
اور اسلام کو غلبہ حاصل ہو (الانفال
39) اقوام عالم کو مختلف دعوات باطلہ کے قبضہ
Cluchسے نکال کرایک توحید ی جھنڈ ے تلے
جمع کرنا' ایک اللہ کی عبادت کروانا' ایک قر آن کو ساری
دنیا کا دستور نظام منوانا ' ایک کلمہ پر اکٹھاکرناجہادہی کے
ذریعہ ہی ممکن ہے (بخاری
۔ احمد)
موجودہ دور میں کفارومشرکین کو
زندگی کےہر شعبہ میں بر تری حاصل ہے وہ موت کے ڈرسے ظاہر
ی طور پر ایسی محفوظ جگہوں میں قلعہ بند ہیں اور
ایسے ایسے جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں کہ
مٹھی بھر مجاہدین کے لیے ان سے دوبدولڑنا ممکن نہیں البتہ
خفیہ طور پر ان کو دھوکہ میں رکھ کر ان کے اندر گھس کر فدائی
حملہ کریں تو کامیابی ممکن ہے دشمنوں پراس سے وحشت طاری
ہوتی ہے وہ اعصابی دباؤمیں آکر اتنے ناتواں وکمز ور
ہوجائیں گے کہ جس طرح ایک سخت پھتر کی چٹان پر ایک
ہی جگہ قطر ہ قطرہ پانی گرتار ہے تو سخت چٹان میں بھی
سوراخ کردیتاہے اور یہ پانی چٹان میں بھی اپنا
راستہ بنالیتاہے اسی طرح یہ فدائی حملے کفریہ طاقتوں
کی چٹانوں پرہوتے رہیں گے تو کفریہ طاقتیں بھی ٹوٹ
پھوٹ کا شکار ہوجائیں گی اور مجاہدین کے لیے کا
میابی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
اگرفدائی حملے کا راستہ روکا گیا تو
مسلمانوں کی بچی کھچی متاع دنیاپر کفارقابض ہوجائیں
گے اور مسلمانوں کے پاس جو کچھ بھی ہوگا وہ دشمنوں کا مال ہوگا اور مسلمانوں
کے پاس چند بوسید ہ ہڈ یوں کے علاوہ اور کچھ باقی نہیں
رہےگا جیساکہ مال دار لوگ گوشت کھاکر ہڈ یوں کو کتوں کے سامنے
پھینک دیتے ہیں اور مسلمان رفتہ رفتہ اس حد تک مفلس اور قلاش
ہوجائیں گے کہ ایک ایک لقمہ کے لیے دربدر کی ٹھوکر یں
کھائیں گے اور ان کی غیر ت ' عز ت وآبر واور متاع دین
متین کی کفر کے بازار میں نیلامی ہوگی اس
لیے مسلمانوں پرلازم ہے وہ کسی وجہ سے مجاہدین کے ساتھ تعاون نہ
کر سکیں تو کم ازکم دشمنی نہ کریں ورنہ ان کا خمیاز ہ سب
کو بھگتناپڑ ے گا لہٰذا ان
فدائی حملوں میں رکاوٹ ڈالناامت مسلمہ کے لیے خودکشی کرنے
کے متر ادف ہے ۔
خودکش اورفدائی حملوں
میں فرق : دین اسلام
میں خودکشی تو دورکی بات ہے کسی مصیبت کے وجہ سے
موت کی تمنا کرنابھی حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' تم میں سے کوئی بھی
کسی مصیبت کے آجانے کی وجہ سے موت کی تمنااور خواہش نہ
کرے'' (مسلم) نیز فرمایا ''نہ موت آنے سے پہلے
اس کی دعامانگے'' (مسلم
) اور فرمایا '' جس نے کسی تیز دھارآلہ قتل
کےساتھ خود کو قتل کیاتو اس کو جہنم میں اسی چیز کے ساتھ
عذاب دیاجائے گا''(بخاری
) دوسری حدیث میں ہے
''ایک شخص کو کوئی زخم لگ گیا تھااس نے بے صبر ی
میں اپنے آپ کو قتل کردیاتو اللہ تعالٰی نے
فرمایا''میر ے بندے نے اپنی جان کے بارے میں مجھ سے جلد
بازی سے کام لیاہے
لہٰذا اس پر جنت حرام کردی ہے ''(بخاری ۔ مسلم) اس
سے معلوم ہوا کہ خود کشی کرنااور دشمن کے مقابلے کے بغیر اپنی
جان ختم کردینا بالکل حرام ہے ۔ انسان خود اپنی جان کا مالک
نہیں اس لیے مالک حقیقی کی مرضی کے
بغیر خود کشی کرنا گناہ کبیر ہ ہے اس سے ظاہرہوتاہے کہ وہ شخص
اللہ کی تقدیر پر جلدی مچاتاہے اور رب کا ئنات کے فیصلہ
پر خوش نہیں ہوتا'خودکشی سے غم وغصہ 'جزع وفزع اور سخت قسم کی
بے صبر ی کا اظہارہوتاہے ۔ حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے
خودکشی کرنے والے کا جنازہ نہیں پڑھالیکن صحابہ کرامؓ کو
منع بھی نہیں فرمایا (مسلم
۔ ترمذی ۔ نسائی)
اس لیے اگر کسی شخص نے دنیوی مقصد کےلیے
خودکشی کو حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کیا تووہ دائر ہ اسلام سے
خارج ہوجائے گا۔
اس
کے بر عکس اگر بندہ اپنی جان حکم الہی کے مطابق غلبہ دین
کی خاطر ' دشمنوں کو قتل یا کمزور کرنے کےلیے اللہ کی
رضاکی خاطر فد ا یا قربان کرتاہے تو یہ جائز ہے بلکہ نہ صرف
مستحب بلکہ موجو دہ حالات میں ناگز یر اور فرض ہے اور وہ شہادت کے
مرتبہ پر فائز ہوگا ۔ اس لیے کفارومشرکین کے خلاف فدائی
حملوں کو خودکشی کہناغلط بلکہ کفارومشرکین کے غلبہ کو تقویت
پہنچاناہے یہ دراصل کفر کشی ہے یہ حملے اپنی جان
اللہ کے مقر ر کردہ وقت سے پہلے ختم کرنے کےلیے نہیں بلکہ دشمنان
اسلام کو نقصان سے دوچارکرنے ' دین اسلام کی حمایت کےلیے
کیے جاتے ہیں یہ ہر گز خودکشی یاقتل نفس نہیں
بلکہ فدائے نفس ہے جیساکہ قر آن میں ہے جہاد کر واپنے جان ومال سے (الصف
11) وہ تو احادیث کے مطابق موت کو موت کی وادیوں میں
تلاش کرتاہے (مسلم) وہ تواپناگلاکٹانے کا منتظر ہوتاہے (نسائی)
خود کشی کرنے والااللہ کی رحمت سے مایوس 'اپنی
زندگی سے بے زار اور رب کریم سے ناراض ہوتاہے اس کے بر خلا ف
فدائی حملہ کرنے والااپنے آقا دوجہاں پر جان نچھادر کرنے والا'شہادت
کی تمنالیے ہوئے اور اپنے مالک حقیقی کے دیدار کے
شوق میں بے تاب اوراس کے رحمت کا طالب ہوتاہے ' اس کاموت کو گلے لگاناا س
صداقت کی دلیل ہےکہ جہاد افضل ترین عبادت ہے (بخاری )
اس لیے اپنے آپ کو قتل کرنابے شک ناجائزہے لیکن دشمنان اسلام کو قتل
کرنے کےلیے جان کی بازی لگادیناعین صواب (درست )
بلکہ کا رثواب ہے ۔
فدائی
حملہ
قرآن پاک کی روشنی میں: (1) ارشاد باری
تعالٰی وَمِنَ النَّاسِ
مَنْ يَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہ ط وَاللہ رَءُوف بِالْعِبَادِ (البقرہ 207) " انسانوں ہی میں کو ئی ایسا
بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان
کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے " یشری
سے مراد وہ اپنے وجود کو اللہ کے ہاں
فروخت کر دیتا ہے ۔ وہ اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے وہ
اس میں کچھ پچا کر نہیں رکھتا اس کی ادائیگی اور اس
فروخت سے اللہ کی رضا کے سوا کچھ نہیں چاہتا اب اس کے وجود میں
اس کے لیے کچھ نہیں رہتا نہ اس کے بعد اس کےلیے کو ئی
چیز رہتی ہے۔ مکمل فروخت جس میں کوئی تردد، کوئی
ہیر پھیر اور کسی قیمت کی وصول یابی
نہیں۔ نہ غیر اللہ کے لیے وہ کچھ بچا کر رکھتا ہے اور
جہاد کا حق ادا کرتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے۔
ان
الفاظ کا ایک اور مفہوم ہوسکتا ہے کہ مؤمن دنیا کے تما م ساز وسامان
کے عوض اپنے آپ کو خرید لیتا ہے تاکہ اسے ہر چیز سے آزاد ہوکر
اللہ کے حضور پیش کردے وہ بھی اس طرح کہ اس پر اس کے مالک و
مولٰی کے سوا کسی اور کا حق نہ ہو۔ اس طرح فروخت یا
خرید کے ذریعہ جب اس کا کچھ نہ رہا تو وہ نیک نیتی
سے اس بیع کی شہادت مہیا کرنے کے لیے اللہ کے دشمنوں
کی صف میں اکیلا گھس جاتا ہے یہ نہ صرف جائز بلکہ مستحب
عمل، مستحسن اقدام اور رضائے الٰہی کا موجب، دخول جنت کا باعث ہے اس آیت سے فدائی حملہ کا جواز ثابت
ہوتا ہے۔
( 2) فَتُوبُوا اِلٰی بَارِئِكُمْ
فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُمْ (البقرہ
54) یعنی " اپنے خالق کے
حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو" ۔ اس آیت سے
اللہ کے حکم کے مطابق اپنے آپ کو ہلاک کرناثابت ہے لیکن یہ کام آسان نہیں اللہ
تعالٰی فرماتا ہے " اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ
اپنے آپ کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے کم
آدمی اس پر عمل کرتے " ( النساء ۔ 66) لہٰذا جو مجاہد اپنے رب کی
خوشنودی کے لیے اپنی جان فدا کردے وہ قابل ستائش ہے
کیونکہ اللہ تعالٰی کے مطیع و فرماں بردار بندے جب اللہ
کے نافرمانوں کو قتل کریں تاکہ دنیا اللہ کے باغیوں سے پاک ہو
اور فدائی کا بھی تزکیہ ہو اگر وہ شہادت پائے تو جنت کا مستحق
ہوتاہے۔
(3) : ارشاد باری ہے . قُتِلَ اَصْحَابُ الاُخْدُودِ ◌
النَّارِ ذَاتِ الْوُقُودِ ◌ إِذْ ھُمْ عَلَيھَا قُعُودُ
◌ وَھُمْ عَلٰی
مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُھُودُ
◌ وَمَا نَقَمُوا مِنْھمْ اِلا أَنْ يُّؤْمِنُوا
بِاللہِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ( البرج 4-8 ) "مارے گئے گڑھے والے (اس گڑھے والے) جس میں خوب
بھڑکتے ہوئی ایندھن کی آگ تھی جبکہ اس گڑھے کے کنارے
بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ ایمان لانے والوں کے ساتھ ظلم و ستم کر رہے
تھے اس کو دیکھ رہے تھے اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی
اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے
جو زبردست اور سزاوار حمد ہے۔"
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق بادشاہ کی مرضی
کے خلاف جب لڑکا مسلمان ہوگیا تو پہلے اس کو اسلام کی طرف راغب کرنے
والے راہب کو قتل کیا پھر لڑکے کو قتل کرنا چاہا مگر کوئی
ہتھیار اور کوئی حربہ اس پر
کار گر نہ ہوا۔ آخر کار لڑکے نے خود اپنی موت کا یہ طریقہ
بتلایا کہ بسم رب الغلام ( اس لڑکے کے رب کے نام سے کہہ کر) مجھے تیر مارےگا تو
میں شہید ہو جاؤں گا اور ایسا ہی ہوا تو بادشاہ کا
دین چھوڑ کر لاتعداد لوگ لڑکے کے دین پر ایمان لے آئے۔
بادشاہ نے ان اہل ایمان کو آگ بھرے گڑھوں میں
پھینکوادیا۔ اللہ نے اس واقعہ کی تعریف و مدح
کی ہے کہ اہل ایمان کس طرح پختگی کے ساتھ ایمان پر ثابت
قدم رہے اور کفر پر قتل اور ظاہری خودکشی کو کس طرح اختیار
کیا اور اپنے اختیار سے بخوشی آگ میں کودنا گوارا
کیا لیکن کفر کو قبول نہیں کیا۔ لڑکے نے بھی
خود ہی دین کی سر بلندی اور غلبہ کے لیے اپنے آپ کو قتل کرنے کا راستہ بتلایا(
یعنی اسلام پر فدا ہونا پسند کیا ) ایسی فدا کاری کو چاروں ائمہ
نے جائز قرار دیا ہے کہ مسلمان کافروں کی صف میں گھس کر حملہ کر
دیں اگر اس طرح فدائی حملہ سے
مسلمانوں کا فائدہ ہو (مجموع الفتو یٰ ) راہب کے جسم کے دو ٹکڑے کیے گئے
لیکن وہ دین حق پر ثابت قدم
رہا۔ ایک نو مسلم خاتوں دودھ پیتے بچے کی وجہ سے آگ
میں گرنے سے گھبرائی مگر بچے نے اللہ کے حکم سے آواز دی "
اماں جان صبر کر کیوں نکہ تو حق پر ہے " یہ واقعات فدائی
حملوں کے جائز ہونے کے واضح ثبوت ہیں قرآن مجید پڑھنے والا ان کو پڑھ کر
قیامت تک فدائی حملے کرتا رہے گا۔
(4 ) قرآن
میں ہے يُقَاتِلُونَ فِي
سَبِيلِ اللہِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ( التوبہ 111 ) " وہ اللہ
کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں " ۔
یعنی جہاد کی راہ میں فدائی حملہ کرتے ہوئے
کبھی تو دشمنوں کو قتل کر دیتے ہیں اور کبھی ان کے ہاتھوں
قتل کر دیئے جاتے ہیں تاکہ اپنے جانیں اللہ کے سپرد کرکے ان
کی قیمت میں جنت حاصل کر سکیں اس سے معلوم ہوا کہ اللہ
کی راہ میں جان فدا کرنا اللہ کو مطلوب ہے اور مجاہد دہ معیوب
چیزیں جان ومال دے کر بے عیب جنت کا سودا کرتا ہے۔
(
5 ) اللہ
تعالٰی کا ارشاد ہے قَالَ
رَجُلانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ اَنْعَمَ اللہ عَلَیھمَا ادْخُلُوا
عَلَيْھِمُ الْبَابَ ج فَإِذَا دَخَلْتُمُوھُم فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ج وَعَلَی اللہ فَتَوَكَّلُوا اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ( المائدہ ۔ 23 )
یعنی " ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے
بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ
جبارون کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ ( فدائی حملہ کر دو ) جب
تم اندر پہنچ جاؤگے تو تم ہی غالب رہوگے ( یہی اللہ کا وعدہ ہے
کہ فلسطیں کی مقدس سرزمین اللہ نے تمھارے لیے لکھ
دی ہے ) اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم
مؤمن ہو"۔ حضر موسٰی علیہ السلام نے بنی
اسرائیل کو فلسطین کی فتح کی بشارت دی اور قوم کے 12 سرداروں کو وہاں کے حالات معلوم کرنے
کے لیے بھیجا تھا انہوں نے رپورٹ دی کہ ملک تو بڑا زرخیز
ہے لیکن وہاں کے لوگ بڑے قدآواراورجباروں کی نسل سے ہیں ہم ان
کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو ان میں سے
دو سرداروں یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے کہا تم خواہ
مخواہ ان بظاہرطاقتور (اندر سے کھوکھلے) لوگوں سے ڈر رہے ہو اگر اللہ کے بھروسے پر
فدائی حملہ کر دہ تو تم ہی کامیاب و کامران رہوگے اللہ
تعالٰی اسی کی مدد کرتا ہے جو خود بھی اپنی
مدد کرے ۔ توکل اسباب مشروعہ کو چھوڑ ترک کردینے کا نام نہیں
بلکہ ممکنہ وسائل و اسباب سے کام لے کر مقصد کے حصول کے لیے جدو جہد
کریں لیکن بھروسہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہونا
چاہیے نیز اسباب مشرعہ کو چھوڑ کر خالی امیدیں
باندھنا بھی توکل نہیں تعطل ہے اس آیت کریمہ سے حضرت
موسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں فدائی حملہ کا ثبوت
ملتا ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
( 6 )
فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللہ ج لا تُكَلَّفُ إِلا نَفْسَكَ ( النساء ۔ 84) " اے نبی تم اللہ کی
راہ میں لڑو تم اپنی ذات کے سوا کسی اور ذمہ دار نہیں
" ۔ حضرت براء بن عازب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ " ایک
مجاہد اکیلا دشمن پر حملہ کردے اور وہ قتل ہو جائے تو یہ ہلاکت
نہیں ہے " ( حاکم) اس
آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
" میں ضرور جہاد کے لیے جاتا ہوں اگرچہ کوئی ایک
بھی میرے ساتھ نہ ہو "
(تفسیر عثمانی ) یہ واضح طور پر فدائی حملہ کا عزم
ہے۔
فدائی
حملہ
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی
روشنی میں : ( 1) غزوہ بدر میں دو
کم عمر انصاری نوجوانوں نے عبدالرحمٰن
بن عوف رضی اللہ عنہ سے ابو جہل کی شناخت معلوم کی اور کہا ہم نے اللہ سے عہد کر رکھا ہے کہ اس
اللہ کے دشمن کو قتل کردیں گے چاہے اس کوشش میں ہماری جان
ہی کیوں نہ چلی جائے پھر دونوں ابو جہل کی طرف دو عقابوں
کی طرح جھپٹے اور اسے قتل کر دیا یہ تاریخ اسلام کی
پہلی فدائی کاروائی تھی۔
( 2 ) معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے جب سنا کہ ننگے بدن دشمن میں
گھس جانے پر اللہ تعالٰی مسکراتا ہے تو (غزوہ بدر میں)
اپنی زرہ اتار پھینکی اور دشمن کی صف میں گھس کر
داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوگئے (ابن ابی
شیبہ۔البدایہ والنہایہ) اس طرح فدائی کاروائی
کر کے اپنےرب کو راضی کر لیا۔یہ فدائی حملہ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو ہوا۔
(
3) جب مشرکین حضور
اکرام صلی
اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کرکے ساتھ لے گئے تو سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے
اکیلے پیدل ہی ان کا تعاقب کرتے ہوئے تیروں کے
ذریعہ ان کو زخمی کرتے ہوئے اور پتھراؤ کرتے ہوئے گئے اور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سواریاں چھڑا
لیں اور مال غنیمت بھی حاصل کیا (مسلم) پھر احرم
رضی اللہ عنہ ان کی مدد کے لیے پہنچے تو سلمہ رضی اللہ
عنہ نے ان کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے فرمایا " اے
سلمہ تو جانتا ہے کہ جنت و دوزخ حق ہے تو
میری شہادت کے راہ میں حائل نہ ہو، مجھے اکیلے حملہ کرنے
سے نہ روک " اور انہوں نے مشرکین پر حملہ کر دیا اور شہادت
پائی پھر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے سردار عبدالرحمن
بن عیینہ پر حملہ کرکے اس کو
قتل کرکے احرم رضی اللہ عنہ کا بدلہ لے لیا۔ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" آج کے دن بہترین سوار ابو قتادہ
رضی اللہ عنہ اور بہترین پیادہ سلمہ رضی اللہ عنہ ہے
" (مسلم) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک شخص تنہا بہت بڑے دشمن پر حملہ کر
سکتا ہے خواہ اس میں اس کی اپنی جان کا سو فیصد خطرہ
ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فدائیوں کی مدح سرائی کی اور ان کے عمل کو سراہا اور سلمہ
بن اکوع رضی اللہ عنہ کو سوار اور پیدل دونوں کا حصہ بھی مال
غنیمت سے دیا جبکہ ان صحابہ
رضی اللہ عنہ نے اکیلے اکیلے ہی دشمن پر حملہ کر
دیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی
اللہ تعالٰی عنہم کی آمد کا انتظار بھی نہیں
کیا تھا۔
(4) یزید بن
ابی زید بیان کرتے ہیں میں نے سلمہ بن اکوع رضی
اللہ عنہ سے سوال کیا " حدیبیہ کے دن تم نے کس بات پر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے بیعت کی
" تو انہوں نے جواب دیا "
موت پر" (بخاری) فدائی عمل کے معنی یہ ہے کہ اپنے آپ
کو خطرے میں ڈال کر دشمن پر وار کرے مصلحت و احتیاط کو بالائے طاق
رکھے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے دشمن پر
جھپٹے۔ کام مکمل کرے اور لڑتابھڑتا وہاں سے نکلے شہادت پاجائے تو اللہ کا
مال واپس آجائے تو ہر چند نہال۔ چودہ سو نہتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے موت کی بیعت کرنا
فدائی عمل ہے جس سے اللہ تعالٰی بھی ان مؤمنوں سے خوش ہو
گیا (الفتح 18 )
(5) سفیدریش بزرگ حضرت عمر وبن
جموع سلمٰی رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس کی خدمت میں حاضر
ہوکر غزوہ احد میں شرکت کی اجازت طلب کی حالانکہ وہ بڑھاپے اور
ایک ٹانگ سے معذور ہونے کی وجہ سے جہاد میں شرکت کے مکلف نہ تھے
حضوراکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان کے جذبہ جہاد سے متاثر ہوکر ان
کو اجازت دے دی ۔ وہ گھر سے یہ دعاکرتے ہوئے نکلے ''
الہٰی مجھے شہادت نصیب فرمااور مجھے ناامید گھر واپس نہ
لانا '' وہ معذوری کے باوجود میدان کارزارمیں بڑی بے جگر
ی سے لڑے ساتھ ساتھ فرماتے جاتے تھے ''میں تو جنت کا متلاشی
ہوں۔ میں توجنت کامشتاق ہوں '' اللہ تعالٰی نے ان کو
شہادت کے بلند مرتبہ پر فائزکیا(احمد) ایک معذور شخص طاقتور
اور بہت زیادہ اعداد والے دشمن پر حملہ کرنا جہاں موت
یقینی تھی فدائی حملہ ہی تھا۔ یہ
حملہ خود مجاہد اعظم صلی اللہ
علیہ وسلم کے سامنے ان کی
اجازت سے ہوا۔
(6) غزوہ احد میں جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ
پھیلیتو حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے فرمایا'' اب
تم لوگ زندہ رہ کرکیا کروگے ؟ اٹھو اور جس چیز پر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے جان دی
اسی پر تم بھی جان دے دو''وہ آگے بڑھے اور سعدبن معاذؓ سے کہاکہ
''احد پہاڑ کی دوسری طرف مجھے جنت کی خوشبوآرہی ہے '' اور
آگے جاکرمشرکین پرفدائی حملہ کردیااور خلعت شہادت سے سرفرازہوئے
۔ جنگ کے بعد حضرت انسؓ کے جسم پر نیز ے ' تلوار اور تیر
کے اسیّ زخم پائے گئے ۔ (متفق
علیہ) صرف اپنی شہادت کو
ہدف بناکردشمن سے بھڑ جانا فدائی کا رروائی ہے ۔
(7) نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضر ت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت خبابؓکو ایک
فدائی حملہ کے لیے روانہ کیااسی طرح وحیہ بن
خلیفہ کو تنہاچھاپہ مارکارروائی کے لیے بھیجا(سنن کبر
یٰ) آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا
کہ جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہوتو تم اکیلے آگے بڑ ھو (ابن ابی
شیبہ ) فدائی کی یہ شان ہے کہ اپنے آپ کو خطر ات میں ڈال کر دشمن کے لشکر
میں گھس جاتا ہے تاکہ اس کی اس اداسے رب راضی ہوجائے ۔
(8)بئر معونہ کے واقعہ میں ایک ساتھی
پیچھے رہ کر بچنے میں کامیاب ہوگیا۔اس نے
دیکھاکہ پر ندے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر بطور حفاظت جمع
ہیں اس شخص نے اپنے دوسرے ساتھی عمر وبن امیہؓ سے
کہا''میں بھی ان کفارپر فدائی حملہ کرتاہوں تاکہ یہ لوگ
مجھے بھی قتل کردیں کیونکہ
جہاں ہمارے دوسرے ساتھی شہید ہوئے ہیں میں
بھی وہاں شہادت کا متمنی ہوں ''چنانچہ آگے بڑھ کرحملہ کیااور وہ
شہید ہوگئے ۔ جب یہ قصہ حضرت عمر وبن امیہؓ نے
نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کے سامنے بیان
کیاتو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کےلیے اچھے
کلمات استعمال کیے اورعمر وبن امیہؓ سے فرمایا''تم
کیوں آگے نہ بڑھے ''(سنن کبر یٰ۔ امام شافعی)حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدائی کی تحسین کی
اور دوسرے ساتھی کو بھی تر غیب دلائی۔
(9) غز وہ احد میں ایک موقع پر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات
انصاری صحابہؓ اور دوقریشی صحابہؓ رہ جاتے
ہیں اور مسلمانوں کا باقی لشکر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے کٹ جاتاہے دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چندافرادمیں پاکر سرپر چڑھ آتے
ہیں تو حضوراکرم صلی اللہ
علیہ وسلم اعلان کرتے ہیں ''دشمنوں
کو ہم سے کون دورہٹائے گا''اس کے لیے جنت ہوگی (یاوہ جنت
میں میراساتھی ہوگا) ''یہ سن کر یکے بعد دیگر ے ساتوں انصاری
صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم
پر اپنی جانیں لٹادیتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم دونوں قر
یشی ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی غیر ذمہ
داری کا احساس دلاتے ہیں کہ '' ہم نے اپنے انصاری ساتھیوں
کے ساتھ انصاف نہیں کیا''(کہ وہ تو جنت کی لالچ میں ہمارے
دفاع پر قربان ہوگئے اور ہم پیچھے رہ گئے )۔''(بخاری ۔
مسلم )گویااللہ تعالٰی خریدنے والاہے ' مومن اور مجاہد
بیچنے والا ہے ' جان ومال سامان فروخت ہے ' جبکہ جنت الفردوس قیمت خر
ید ہے ۔
فدائی حملہ
(10) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے عمر وبن امیہ الضمر ی
اور ایک انصاری صحابی کو ایک جنگی مہم
پر بھیجا(بہیقی)اسی طرح خیبر میں
عبداللہ بن عتیکؓ نے سلام بن ابی الحقیق ابورافع کو اور
محمد بن مسلمہ نے کعب بن اشرف کو کمانڈوا یکشن کے ذریعہ واصل جہنم
کیا(بخاری) اس سے فدائی کارروائیوں کے ذریعہ
ائمۃ الکفر کو اور بڑے بڑے کمانڈروں کے قتل کا جوازثابت ہوتاہے ۔
(اا)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن انیسؓ کو ایک
کا فرسردار خالد بن سفیان کے قتل پر مامور کرتے ہوئے فرمایا''مجھے
یہ خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان میر ے خلاف فوجیں
جمع کررہا ہے تاکہ میر ے ساتھ جنگ کرے فاتہ فاقتلہ تم اس کے پاس جاؤاور اسے قتل کردو ''(اور
یہ عین اس کی فوج کے اندر گھس کرفدائی کا رروائی
کرنا تھی )(احمد)اسی سے دشمن کے خفیہ ٹھکانوں پر حملے کرنے '
دشمن کی صفوں یا کیمپوں میں کو دجانے اور ان کی
مضبوط پناہ گاہوں پر فدائی حملہ کرناثابت ہوتاہے ۔
(12) غزوہ احد کےوقت دوصحابہ
کرامؓ نے دعائیں کیں حضرت سعدبن وقاصؓ نے دعاکی
''اے میر ے رب جب دشمنوں سے مڈبھیڑ ہوتو میرے سامنے ایک
ایسے شخص کولا جو سخت حملہ آور ہواور وہ فن جنگ کا ماہر ہو۔ اور
میرا اس سے خوب معر کہ ہواور میں اسے قتل کردوں اور اس کا سارامال
لےلوں ''۔ عبداللہ بن جحشؓ نے آمین کہی ''پھر عبداللہ بن
جحشؓ نے دعاکی''اے میرے اللہ مجھے ایک ایسے
آدمی سے مقابلہ کی تو فیق دے جو سخت حملہ آور ہواور بڑا جنگجوہو
میں تیر ے لیے اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے پھر وہ مجھے
پکڑے میری ناک بھی کاٹ
دے ۔ میر ے کا ن بھی کاٹ دے اور میں اللہ سے
روزقیامت کہہ سکوں''تیر ے اور تیر ے رسول کے لیے
میرے کان اورناک کا ٹے گئے اور اللہ تعالٰی اس کے تصدیق کرے '' حضرت سعدؓ نے
آمین کہی دونوں کی دعائیں قبول ہوئیں (حاکم ) پہلے
حملہ 'پھر قتال 'خوب زور شور سے قتال پھر قربانی پھر فتح یاشہادت
یہ ہے سچی فدائی کا رروائی۔
(13) غزوہ احدکے آخر میں
حضرت زید بن حارثہؓ کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا'' تم جاؤاور سعدبن
ربیعؓ کو کہیں زخمیوں میں تلاش کرو اگر وہ
دکھائی دیں توان کو میر اسلام کہنااوران کی خبر پوچھنا''
زیدؓ نےان کو ڈھونڈ لیاان کے جسم پر ستر کے قر یب زخم تھے
ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کاپیغام پہنچایا گیاتو انہوں نے بھی حضور صلی
اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو
سلام بھیجااور بتلایاکہ میں جنت کی خوشبوپارہاہوں اور
فرمایاانصار سے کہناکہ '' جب تک تمہارے بدن میں جان ہے تو اگر
تمہاری زندگی اور موجود گی میں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کوکوئی تکلیف
پہنچی تو اللہ کے ہاں تمہاراکوئی عذرقبول نہ ہوگا''اور اس کے بعد ان
کو شہادت مل گئ (حاکم)یہ ہے
کہ جان فداکرنے کا ذہن ' قتال کا عمل اور شہادت ۔
(14) میدان بدر میں مشرکین سے
پہلے پہنچ کر حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا''اس جنت
کی طرف لپکوجس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر
ہیں ''(آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کی یہ بات سن
کر) عمیر بن حمامؓ نے کہا'' بہت خوب بہت خوب مجھے تو قع ہے کہ
میں بھی اس جنت والوں میں سے ہوں گا ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا''تم بھی اس جنت والوں
میں سے ہو''اس کے بعدوہ اپنے توشہ دان سے کچھ کھجور نکال کرکھانے لگے پھر بولے '' اگر میں اتنی
دیر تک زندہ رہا کہ اپنی یہ کھجوریں کھالوں تو یہ
زندگی لمبی ہوجائے گی چنانچہ انہوں نے کھجوریں
پھینک دیں پھر مشرکین سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے (مسلم )
یہ ہے فداکاری کہ جنت کی راہ میں کھجوروں کو بھی
رکاوٹ نہ بننے دیا۔
دورصحانہ کرامؓ:
(ا) فداکاری کا ایک دوسرامنظر
بھی ایمان افروز اور قابل دیدہے ۔
ابوموسیٰ اشعریؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہ ارشادگرامی
بیان کرتے ہیں کہ ''جنت کے دروازے یقیناً تلواروں کے
سایوں تلے ہیں ''تو مجاہدین میں سے ایک مفلوک الحال
اور مفلس شخص کھڑا ہو کرپہلے تو ابوموسیٰ سے اس بات کا
یقین حاصل کرنے کےلیے پوچھتاہے ''کیا واقعی رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبر ی سنائی ہے ''
پھر ان کی یقین دہانی پر اپنے ساتھیوں کو
آخری سلام یعنی سلام الو داع کہتا ہو ا تلوارکی
میان تو توڑ کر پھینکتاہے اور ننگی تلوار کے ساتھ
دشمن پر فدائی حملہ کرتاہے اور بہادری کے جوہر دکھاتاہواجام شہادت نوش
فرماتاہے ''(مسلم )
(2) حضرت ابوایوب انصاریؓ کے
سامنے ایک مسلمان مجاہد تن تنہا رومیوں کے لشکر جرار پر حملہ
آورہوکران کے لشکر کےعین درمیان داخل ہوگیا تو بعض لوگوں
نے وانفقو ا فی
سبیل اللہ ولا تلقو ا باید یکم الی التھلکۃ (البقر ہ 195)
یعنی ''اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ
کو ہلا کت میں نہ ڈالو'' والی آیت پڑ ھ کر کہااس نے اپنی
جان کو ہلاکت میں ڈال دیاہے '' تو حضرت ابوایوب
انصاریؓ نے کہا''لوگو تم نے اس آیت کا غلط مطلب سمجھا
ہےیہ تو ہم انصار کے بارے میں بطور ڈانٹ نازل ہوئی تھی کہ
جب ہم نے سوچاکہ اسلام غالب آچکاہے تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےا لتجاکی (چونکہ ہم جہاد سے فادغ ہوگئے
ہیں )اس لیے ہم اب اپنے کاروبار میں لگ جائیں اور
معاشی حالت درست کرلیں اس لیے اللہ تعالٰی نے ڈانٹ
پلائی کہ '' اللہ کی راہ میں جہاد کےلیے مال خرچ کرتے رہو
(اور جہاد چھوڑکر ) اپنے آپ کو ہلاک وبر بادنہ کر و لہٰذا ہلاکت جہادنہ کرنے میں ہے نہ
کہ دشمنوں کی صف میں گھس جانے اورجان فد اکردینے میں ''(ابوداؤد
۔ ترمذی ۔ حاکم) گویا جہاد فی سبیل اللہ
میں مال خرچ نہ کرنا دنیامیں بھی موجب ہلا کت ہے کہ
کفارسے مغلوب اور ذلیل ہوکر رہوگے اور آخرت میں سخت بازپرس کا خطرہ ہے
۔
(3)دمشق کے محاصرہ کے دوران
ازدشنوۃ قبیلہ کے ایک شخص نے تن تنہادشمن کے لشکر پر حملہ کا
قصد ظاہر کیا تو پہلے حضرت عمر وبن العاصؓ نے جو فوج کے اس حصہ کے
کمانڈر تھے دو قرآنی آیات سنائیں کہ سیسہ پلائی ہو
ئی دیوارکی طرح صف میں کھڑ ے ہوکر لڑ و(اکیلے
نہیں )پھر سنایاکہ اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ
ڈالولیکن اس مجاہد نے اصر ارجاری رکھا تو حضرت عمر وبن العاصؓ
نےاجازت دے دی چنانچہ وہ دشمن کی طرف اکیلاہی چل پڑا
یہاں تک کہ رات کا اندھیر ا چھاگیا تو وہ شخص واپس لوٹ
آیا۔ مسلمانوں نے کہا''اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ تیر
ی رائے اب بدل گئ اس لیے واپس آگئے ''اس مجاہد نےجواب دیاکہ
''اللہ کی قسم میں اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹاہوں البتہ
میں نے سوچاکہ رات کی تاریکی میں بغیر فائدے (یعنی
دشمن کا بڑا نقصان کیے بغیر )میں ضائع نہ ہو جاؤں جب صبح
ہوئی تواس مجاہد نے سویر ے سو یر ے ہی دشمن کی طرف پیش قدمی کی اور لڑ تے
لڑتے شہید ہو گیا۔ (ابن عساکر )
فد ائی حملہ
(4)
محاصرہ دمشقکے دوران ایک مجاہد نے تن تنہاکفا رپر فدائی حملہ
کردیایہاں تک کہ لڑتے لڑتے وہ حمص کے قریب دیر مسحل تک
پہنچ گیا وہاں وہ اپنے گھوڑ ے کو پانی پلارہاتھاکہ حمص کے بیس
کفاراس کے تعاقب میں نکل آئے ۔ مجاہد نے اپنے گھوڑ ے کو نہر میں
ڈال دیا اور نہر پار کرکے ان پر حملہ کردیا چنانچہ یکے
بعددیگر ے ان کے گیارہ سپاہیوں کو واصل جہنم کیاپھر وہ
لوگ بھاگ کرایک گرجے میں جاکر چھپ گئے اس مجاہد نے گرجے پر بھی
حملہ کردیامگر وہاں کے رہنے والوں نے اس پر اتنا شد ید پتھر
اؤکیاکہ وہ شہید ہو گیا(ابن عساکر )
(5) حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓسے
ایک شخص نے فرمایاکہ''میں نے پکا ارادہ کرلیاہے کہ کفار
پر سخت فدائی حملہ کروں گا۔ (جس میں شہادت
یقینی ہوگی)تو کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کوئی پیغام دیناچاہتے
ہیں ؟'' حضر ت عبیدہؓ نے فرمایا''نبی مکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کوپہلے
میر اسلام کہنا پھر انہیں بتادیناکہ اللہ تعالٰی نے
فتح ونصرت کے جو وعدے ہمارےساتھ کیے تھے وہ ہم نے سچے پالیے ''(دعوت جہاد)
(6) حضر ت براء بن مالکؓنے
یمامہ کی جنگ میں مسلمانوں سے کہاکہ مجھے منجنیق کے
ذریعہ سے مسیلمہ بن کذاب کے قلعہ میں پھینک دوچنانچہ
صحابہ کرامؓ نے انہیں کسی طریقے سے قلعہ میں
پھینک دیا اور جب آپ دشمنوں میں جاکر گر ے تو آپ نے فو راً
اکیلے ہی اندر لڑائی شروع کردی ۔ کفارکے دس
آدمیوں کو قتل کیا اور مسلمانوں کےلیے دروازہ کھول
دیا۔ صحابہؓ میں کسی نے آپ کے اس فعل کو ناپسند
نہیں کیا۔ (بیہقی )
(7)ابو
حدرداسلمی اوران کے دوساتھیوں نےکفارکی
ایک عظیم الشان فوج پر تنہافدائی حملہ کردیاان کے ساتھ
اور کوئی نہ تھا البتہ اللہ تعالٰی نے کفار کے مقابلہ میں
ان کی نصرت فرمائی چنانچہ وہ کثیر مقدار مال غنیمت حاصل
کرکے اپنے ساتھ لائے (مشارق الشواق )
(8)قادسیہ
کی جنگ میں حضرت معدی کرب زبیدیؓایک
دریاکے کنارے پر اتر آئے اوراپنے ساتھیوں سے کہاکہ''میں ان
مجوسیوں کے پیچھے جاتاہوں اگرتم اونٹ کے ذبح ہونے اور اس کے گوشت کے
تقسیم کرنے کی مقدار کے وقت تک مجھ تک پہنچ گئے تومجھ کو زندہ پالوگے
اور اگر دیر میں تم پہنچوگے تو پھر سمجھ لوکہ میں مر چکاہوں گا''یہ کہہ کر
کفارکی جماعت پر فدائی حملہ کرتے ہوئے اندرتک گھس گئے اس کی قوم
بنوز بید کے آدمیوں نے اپنے سردارکی مدد کےلیے مشتر کہ
حملہ کردیااور معدی کرب تک اس وقت پہنچے جب وہ اپنے گھوڑ ے سے گر چکے
تھے اور آپ نے ایک عجمی کافرکے گھوڑے کوٹانگ سے پکڑ رکھاتھاوہ
کافرمسلسل ان کو تلوار سے ماررہاتھا لیکن اس کا گھوڑ احر کت نہیں کر
سکتا تھا اور جب ساتھی پہنچ گئے تو مجوسی کا فر بھاگ گیا اور
معدی کر ب اس کے گھوڑ ے پر بیٹھ کر واپس آگئے اور قوم سے کہا'' اگر تم
تھوڑی سی تاخیر سے آتے تو میر ازندہ رہنامشکل تھا'' (مشارق
الشواق)
(9) حضرت
عکرمہؓ نے بھی تنہابہت زیادہ حملے کیے
قلعہ حمص کے سامنے آپ نے دیکھا کہ ایک حور کھڑی ہے اس کے ہاتھ
میں پنکھاہے اور ان سے کہہ رہی ہے کہ ''دیر کیوں کر رہے
ہو جلدی آؤہم انتظار میں ہیں۔ حضرت عکر مہؓ جب کفار
کے جمگھٹے میں گھسنے لگے تو ساتھیوں نے منع کیا اور خالدبن
ولیدؓنے بھی فرمایا'' آپ فدائی حملہ نہ کریں
کیونکہ مسلمانوں کو آپ جیسے مایہ ناز کمانڈ ر کی اشدضرورت ہے ''تو انہوں نے جواب دیاکہ
''ان باتوں کو چھوڑ یے آپ تو قدیم الاسلام ہیں اور میں
اور میر اباپ تو نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے
سخت مخالف اور دشمن تھے '' یہ کہہ کر آپ چلے گئے اور دشمن کی جماعت
میں گھس کرجان اللہ کی راہ میں نچھاور کردی (بیہقی)
(10)
عبداللہ بن حذافہؓ کے سامنے ابلتے ہوئے گرم تیل
کی بڑی دیگ تھی ایک مسلمان کو ان کے سامنے اس
میں گراکر جلادیا گیا تو اس کی ہڈی کے علاوہ کچھ نہ
بچاتھااور حضرت عبداللہ بن حذافہ کو جب جلتے اور ابلتے ہوئے تیل کی
دیگ میں ڈال کرجلانے کےلیے لے جارہے تھے تو وہ جاتے ہو ئے رور
ہے تھے اور یہ رونا اس لیے نہیں تھا کہ یہ ناجائز
خودکشی ہے بلکہ رونا اس بات کاتھا کہ ان کے پاس صرف ایک جان ہے اور صرف ایک جان کو جلانا توبہت ہی
معمولی عمل ہے۔ کاش ان کے سراور جسم کے بالوں کے برابر ہزاروں لاکھوں
جانیں ہو تیں تو آج وہ بھی اللہ کی راہ میں جلاکر
قربان کرتے (اسد الغابہ فی معر فتہ الصحابہ ) اس سے معلوم ہواکہ اللہ
کی رضاکے لیے جان فداکرناجلیل القدرصحابہ کرامؓ کے نز
دیک قابل فخر اور لائق ثواب کا م تھا موجودہ زمانہ میں فدائی
حملے بھی ایسے ہی ہیں اور وہ اللہ کی رضا '
دین کی سر بلند ی ' شر یعت کی بالادستی اور
سنت کی اتباع اور شہادت کی
تمنا میں کیے جاتے ہیں یہ بھی عظیم جہاد کا
ایک حصہ ہیں ان کونا جائز کہنے والاخودکو دھوکہ دے رہاہے اور وہ امت
مسلمہ کا فردنہیں ہو سکتا۔
(اا) جنگ
جمل کے دن عبداللہ بن زبیرؓنے اشتر
نخعی کو گر ادیا لیکن وہ ان کی گر فت سے نکل گیا تو
انہوں نے ساتھیوں سےکہاکہ مجھے اور مالک (اشتر کا اصلی نام)کو قتل
کردو لیکن ساتھی یہ کام نہ کر سکے ''(تار یخ طبر
ی) اگر عبداللہ بن زبیرؓ کے پاس دھماکہ خیز مواد
یابارود ہوتا تو فدائی حملہ کرکے دنیا ئے اسلام کو ایک
باغی اور مفسدسے نجات دلاکر فتنہ کا درواز بند کردیتے ۔
(12)جنگ
یمامہ کے دن ثابت بن قیسؓحنوط(جو
میت پر لگائی جاتی ہے )لگا رہے تھے پھر اپنا اسلحہ پہنا گھوڑے
پر سوار ہوئے دشمن کی صف میں گھس گئے قتال کیااور شہادت
پائی ۔ (بخاری ۔ مسلم)
(13) حضرت
سلمہ بن اکوعؓکے بھائی کو سخت جنگ کے دوران خود
اپنی تلوار لگی جس سے وہ شہید ہوگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا'' یہ ایسا شخص ہے
جو اللہ کی اطاعت اور جہاد میں کوشش کرتے ہوئے شہید ہواہے ''(مسلم)
اس سے معلوم ہوا کہ دوران جنگ کو ئی اپنی تلوار یابم سے قتل ہوا
وہ شہید ہے اور اللہ تعالٰی کی اطاعت اور جہاد میں
کوشش کرتے ہوئے فدائی حملے کرتے ہیں اور مارے جاتے ہیں وہ
قطعاشہیدہیں ۔ اسی طرح ایک شخص قبیلہ جہینہ
پر حملے کے وقت چوک گیا اور خوداس کو اپنی تلوار لگ گئ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گو اہی
دیتا ہوں یہ شہید ہے (ابوداؤد)
فدائی
حملہ
(14) حضر ت
عمرؓ سے پو چھاگیا کہ ''ایک مجاہدنے
اپنے آپ کو لڑ ائی میں جھونک دیا اور وہ قتل کردیا
گیا'لو گ کہتے ہیں اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا
اور یہ خودکشی ہے ''۔ تو حضر ت عمرؓنے جواب دیالوگوں
نے جھوٹ بولا اس فدائی نے تو دنیا کے عوض آخرت کو خر ید اہے '' (فتح
الباری ) آج کل لڑائی میں بارود'بم ' گولی ' زہر
یلی گیس ' جنگی جہاز 'بحر ی جہاز اورمیز ائل
استعمال ہوتے ہیں اب جنگ کی کیفیت اور جنگ کرنے کے اسباب
یکسر تبدیل ہوگئے ہیں اور ہر چیز کا دفا ع اس کے حالات کے
مطابق کرنا ضروری ہے ورنہ نامناسب طریقےسے دفاع کرناہلا کت اور
خودکشی ہے لہٰذا موجو دہ دور
کے فدائی حملے اور سا بقہ زمانے میں صحابہ کرامؓ کے دور کے
فدائی حملوں میں علت تو مشتر ک ہے اور بنیادی حالت
بھی ویسی ہے اس لیے اس مشینی دور میں
کیفیت مختلف ہونے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتااس لیے
علت ایک ہونے کی وجہ سے اس زمانے کے فدائی حملے نہ صرف جائز
بلکہ کا رثواب ہیں ۔
(15) جسر
کی جنگ میں جب مسلمانوں کا ایر انی
جنگجوؤں سے آمنا سامناہواتو مجاہدین کے گھوڑوں نے جب پہلی دفعہ
ایر انیوں کے جنگجو ہاتھیوں کو دیکھاتو میدان قتال
سے بھاگنا شروع کیااور مجاہدین کےلیے یہ نیا مسئلہ
کھڑا ہوگیااس کے تو ڑ کےلیے ایک مجاہد نے مٹی سے
ایک ہاتھی بنایااو ر اپنے گھوڑ ے کو اس سے مانوس کرناشروع
کردیاتا کہ ہاتھی کی وحشت دور ہوجائے یہاں تک کہ وہ گھوڑ
اہاتھی سے بالکل مانوس ہوگیا تو اس مجاہدنے گھوڑ ے پر بیٹھ
کرایر انیوں کے اس ہاتھی پر حملہ کردیا جو سب سے آگے تھا
تو لوگوں نے کہا'' تجھے یہ ہاتھی قتل کردے گا' تو اس نے جواب
دیا'' یہ کوئی نقصان کی بات نہیں ہے کہ میری
جانی قربانی سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے ''(اتمام الوفا)اس
لیے یہودونصاریٰ مشرکین ومنافقین و غداروں کے
خلاف جو فدائی حملے ہورہے ہیں اس کا مقصد بھی یہی
ہے چاہے وہ خود شہید ہو جائیں لیکن مسلمانوں کو فتح
'آزادی نصیب ہوجائے اور قرآن وسنت پر عمل کرنے میں کوئی
رکا وٹ باقی نہ رہے ۔ صلاح الدین ایوبیؓ نے
بھی اپنے فدائیوں کو ننگے بدن ' بغیر زرہوں کے لڑنے ' دوڑنے اور
حملہ کرنے کی مشق کروائی تھی اس لیے انہوں نے مٹھی
بھر بھنے ہوئے چنے لے کر یر وشلم کے تپتے دہکتے صحرامیں دن بھر ہلکے
وزن کے ساتھ تیز رفتار گھوڑوں پر صلیبی لشکر کو بھگا بھگا
کرمارا۔ امام بن تیمیہؓ نے فدائیوں کے نام سے قبر ص
کے بادشاہ کو دھمکی دے کر مسلمانوں کو ان کی قید سے چھڑ
وایا تھا اس لیے اگر دشمن نئ چال اور جدید ہتھیاروں سے
حملہ آور ہوں تو مسلمانوں کوبھی اس کے مقابلہ کےلیے نئے نئے
دفاعی طریقے اور نئے نئے انداز اختیار کرنے چاہییں
اس لیے ہردور میں پر انے انداز سے لڑنے پر اصر ار کرنا جنگی چال
سے ناواقفیت کی دلیل ہے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے جنگ کو چال بازی
کانام دیاہے (مشکٰوۃ)
ایک
عجیب واقعہ:587ھ میں عکہ (فلسطین )کا
انگر یزوں نے گھیر اؤ کرلیا تو بیر وت سے ان کی
مددکو آنے والا مسلمانوں کا بحر ی جہاز بھی ان کے گھیر اؤ
میں آگیاان میں چھ سو اعلٰی درجے کے مسلمان بہادر
جنگجو سپاہی تھے انہوں نے جب بچاؤ کی کو ئی صورت نہ
دیکھی تو جہاز میں ہر طرف سوراخ کردیے جس کی وجہ سے
جہاز غر ق ہوگیا اور وہ سب شہید ہو گئے لیکن انگر یز
بادشاہ کو کچھ ہاتھ نہ لگا (البدایہ والنہایہ ) اس سے معلوم
ہوا کہ مجاہد رخصت کے بدلے عز یمت کا پہلواختیار کرے نیز دشمن
کے ہاتھوں ذلت ورسوائی کے ساتھ گرفتا ر ہوجانے کے بجائے اپنی جان اللہ
کی راہ میں فد اکرکے کا فردشمنوں کو مسلمانوں کے مال ودولت
وہتھیار وں سے محر وم کرناہی مجاہد ین کی تر جیح
ہونی چاہیے ۔
مجاہد
ہتھیار نہ ڈالے :اگر مجاہد دشمن کے نر غے میں
آجائے اورجان بچاکر نکلنے کی کوئی صورت نہیں تو بھی
آخری گولی تک لڑے اور دشمن کا قیدی نہ بنے اس زمانے
میں کفار مسلمان قید یوں کو ذلیل وخوار کرتے ہیں
سارے کپڑ ے اتار کرجسم کی تلاشی لیتے ہیں سرپر پڑ ول ڈال
کرآگ لگادیتے ہیں برسر عام مجمع میں لاکر ذبح کرتے ہیں
اور لاشوں پردند ناتے پھر تے ہیں کبھی کھانا نہیں دیتے '
پینے کے لیے پیشاب دیتے ہیں '' جنسی
استیصال بھی کرتے ہیں ۔ اس قسم کی رسوائی اور
ذلت سے بچنے کےلیے موت تک لڑناہی بہترہے ۔
نیز
جب کو ئی مجاہد گرفتار ہوجاتاہے تو دشمن اس سے دوسرے مجاہدین کے
خفیہ ٹھکانوں ' خوراک اور اسلحہ کے ذخائر اور مجاہد ین کے منصوبوں
کے بارے میں خفیہ معلومات
حاصل کرکے دوسرے مجاہدین کو بھی گرفتار کرتے ہیں اوران کے اسلحہ
اور ساز وسامان پر دشمنوں کا قبضہ ہوجاتاہے اور برسوں کی محنت پرپا نی
پھر جاتاہے اور مجاہد ین کے سارے منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں
ایسی صورت میں ہز اروں مجاہدین کو ناقابل تلافی
نقصان سے بچانے کےلیے ایک مجاہد کا اھون
البلیتین (دوبُرائیوں میں سے
کم تر بُر ائی اختیار کرنے )کے اصول پر
خودکشی کرلینابالکل جائز ہوگا کیونکہ اس میں وہ
اپنی زندگی کی قربانی دے کردوسروں کو بچاتاہے ۔
فدائی
حملہ اور فقہاء کرام :
(ا) امام
غزالی فرماتے ہیں کہ''اس میں کوئی
اختلاف نہیں کہ ایک مسلمان اگر لشکر کفار یاکفار کے مفادات پر
تنہاحملہ کرتاہے تو اس کے لیے جائز ہے اگر چہ اس کو معلوم ہو کہ اس
میں وہ ماراجائے گا اور جب کفار سے لڑنے میں گھس جانے (یعنی
فدائی حملہ کرنے )کی اجازت ہے اگر چہ قتل کا خوف بھی ہے تو
مسلمان کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ امر بالمعر وف اور
نہی عن المنکر میں آگے بڑ ھے اور جان کی بازی لگا دے (سورۃ
یٰس میں ہے کہ ایک شخص نے رسولوں کی دعوت حق
کی تائید کی تو قوم نے اس کو قتل کردیااور اللہ
تعالٰی نے اس کو جنت عطافرمائی ) لیکن اگر اس کو معلوم ہے
کہ آگے بڑھنے سے کفارکو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتاجیسا کہ کوئی
اند ھاوغیر ہ اپنے آپ کو کفار کے سامنے ڈال دیتاہے تو یہ حرام
ہے ۔ لیکن یہ اقدام اس وقت جائز ہوسکتاہے جب اس کو معلوم ہوکہ
اس کے قتل ہونے سے پہلے وہ کفار میں سے بھی کسی کو قتل کرسکتا
ہے یاا س کے جرات مند انہ اقدام سے وہ کفار پر رعب ڈال سکتاہے اور مسلمانوں
کے عزائم سے ان پر خوف لر زاں طاری ہو سکتاہے کہ سارے مسلمان ایسے
ہی بہادر ہوتے ہیں اور وہ اللہ کے راستے میں شہادت کے طلب
گارہیں جس سے کفار کی شوکت کو نقصان پہنچ سکتاہے اور ان کی سپر
پاوری پانی کا بلبلہ ثابت ہو سکتی ہے تو جائز ہے ''(احیاء
العلوم )
(2)امام
نوویؓ اور رافعیؓ نے لکھاہےکہ:جہاد
میں اپنے آپ کو کفارکے جمگھٹے میں ڈالنا جائز ہے اور شرح مسلم
میں اس پر اتفاق نقل کیاہے اور انہوں نے جنگ بدر میں عمیر
بن حمامؓ کے عمل سے بھی استد لال کیا ہے کہ جب انہوں نے چند
کھجور کے دانے نکالے اور وہ ان کوکھانے لگے تو پھر اسے پھینک کرکہنے لگے
یہ چباچباکر کھانا تو ایک لمبی زندگی ہے یہ کہہ
کراس کو پھینک کر جنگ بدر میں شہید ہوگئے امام نوویؓ
نے فرمایا''اس سے کفارکی جماعت میں گھس جانے (یعنی
فدائی حلمہ کرنے )اور شہادت حاصل کرنے کا جواز ثابت ہوتاہے ۔
جمہور علماء کے نزدیک یہ بلاکراہت جائز ہے ''(دعوت جہاد )
(3) امام محمد بن حسنؓ نے فرمایا'' اگر اکیلا مسلمان ایک ہز ار مشر کین کے لشکر پر حملہ آور ہوجائے تو اس میں شرعا کرئی حرج اور گناہ نہیں جبکہ وہ اپنی کامیابی اور دشمن کی پسپائی کا امیدوار ہو تاہم اگر وہ اس اقدام سے مسلمانوں کو کفار پر حملہ آور ہونے کےلیے برانگیختہ کرنا چاہتا ہو ا اپنی قوت اور حملہ آور ی کے مظاہر ے سے دشمن کو خوف زدہ کرنا چاہتاہو تو ان صورتوں میں بھی اس کے دلیر انہ اقدامات شرعی طور پر جائز ودرست ہیں ''(جامع الاحکام القرآن ۔ للقرطبی )